میر انیس
ہندوستانی اردو مرثیہ نگاری کی سب سے بلند روایت۔ ان کے سلام اور مراثی اہلِ بیتؑ کے ادب کا ستون ہیں۔
مرزا سلامت علی دبیر
لکھنؤی مرثیہ روایت کے بڑے نام اور مرثیہ نگاری میں عظیم مقام رکھتے ہیں۔
علامہ محمد اقبال
کربلا، حریت اور فلسفہِ شہادتِ امام حسینؑ (جیسے 'رموزِ بیخودی' میں) کے حوالے سے ان کا کلام اردو اور فارسی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
میر ضمیر
مرثیے کی جدید ہیئت اور چہرہ، سراپا وغیرہ کے موجد، قدیم مرثیہ نگاری کے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔
مرزا غالب
اگرچہ براہِ راست مراثی کم ہیں، مگر ان کے قصائد اور سلام اردو روایت کا اہم حصہ ہیں۔
جوش ملیح آبادی
شاعرِ انقلاب؛ کربلا اور حریت کے موضوعات پر ان کا کلام بے حد طاقتور اور اثر انگیز ہے۔
قمر جلالوی
کلاسیکی غزل کے ساتھ ساتھ ان کے سلام اور منقبت اپنے درد اور روانی میں بے مثال ہیں۔
نجم آفندی
سلام اور نوحہ نگاری کی کلاسیکی اور جدید روایت کے درمیان ایک بہت بڑا اور معتبر ترین نام۔
حسرت موہانی
اہلِ بیتؑ اور اسلامی عقیدت کے مضامین میں نمایاں ہیں۔
محسن نقوی
جدید اردو میں اہلِ بیتؑ کی مدح، ذکرِ کربلا اور منقبت میں سب سے توانا، مقبول اور بے مثال نام۔
پروفیسر ریحان اعظمی
عالمی سطح پر نوحہ اور سلام نگاری کا سب سے بڑا نام۔ موجودہ دور کا شاید ہی کوئی مقبول نوحہ ہو جو ان کے قلم سے نہ نکلا ہو۔
استاد سبطِ جعفر زیدی
سوز خوانی کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر، جن کا کلام محبتِ اہلِ بیتؑ میں ڈوبا ہوا ہے۔
افتخار عارف
جدید اردو میں سنجیدہ، تہذیبی اور روحانی لہجے کے اہم شاعر۔ کربلا کے استعارے کو جدید غزل میں برتنے کے امام ہیں۔
پیر نصیرالدین نصیر
نعت و منقبت کے بہت بڑے شاعر؛ اہلِ بیتؑ کے بارے میں ان کا کلام خاص طور پر مقبول ہے۔
نصیر ترابی
جدید غزل اور مرثیہ نگاری کا انتہائی معتبر نام (خصوصاً ان کا سلام "وہ جو تیغِ ستم کے آگے ہیں")۔
احمد فراز
جدید اردو کے مقبول ترین شعرا میں سے، جن کی بعض عقیدتی نظمیں اور سلام معروف ہیں۔
ناصر کاظمی
اردو غزل کا دھیما اور اداس لہجہ؛ ان کے ہاں بھی کربلا اور اہلِ بیتؑ کی محبت کے نہایت لطیف اور گہرے اشعار ملتے ہیں۔
مظفر وارثی
عقیدت، سلاست اور روحانیت (خصوصاً حمد و نعت کے ساتھ سلام) کے لیے ممتاز ہیں۔
فیض احمد فیض
مرکزی شناخت ترقی پسند شاعری، مگر ان کا مرثیہ اور سلام نہایت عقیدت مندانہ ہے۔
علی زریون
ہم عصر شعرا میں سے، جن کے ہاں منقبت اور ذکرِ اہلِ بیتؑ جدید اور منفرد لب و لہجے کے ساتھ ملتا ہے۔
تہذیب حافی
جدید مشاعرے کا مقبول نام، جنھوں نے کربلا اور اہلِ بیتؑ کے حوالے سے انتہائی پراثر اشعار کہے ہیں۔
ضیاء جالندھری
منقبت اور سلام میں اثر انگیز طرز رکھتے ہیں۔
عبداللطیف بھٹائی
صوفیانہ روایت میں اہلِ بیتؑ سے وابستہ روحانی رنگ نمایاں ہے (سندھی اور اردو تراجم کے حوالے سے)۔
ڈاکٹر وحید اختر
جدید اردو مرثیے کو فکری اور فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے والا ہندوستان کا سب سے بڑا نام۔
علی سردار جعفری
ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شاعر، جن کی نظم "کربلا" ایک شاہکار ہے۔
ندا فاضلی
ان کے ہاں کربلا کے استعارے اور ذکرِ حسینؑ جدید اور آفاقی انداز میں ملتے ہیں۔
کیفی اعظمی
انہوں نے بھی نہایت شاندار سلام اور نظمیں اہلِ بیتؑ کی شان میں کہی ہیں۔
چھنو لال دلگیر
ہندو شاعر جنہوں نے اردو کا مشہور ترین نوحہ "گھبراگی زینبؑ" لکھا۔ غیر مسلم شعرا کی عقیدت کی روشن مثال۔
داغ دہلوی
کلاسیکی رنگ کے حامل شاعر، جنہیں اردو روایت میں وسیع مقبولیت حاصل ہے۔
عبدالماجد دریابادی
عقیدتی اور اسلامی موضوعات میں سنجیدہ تحریر کے لیے معروف۔
شمیم کرہانی
منقبت و سلام کی روایت میں یاد کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ہلال نقوی
مرثیے کے حوالے سے عالمی سطح پر مانا ہوا نام، جو شاعر بھی ہیں اور مرثیے کے بہت بڑے محقق بھی۔
پروفیسر اویس خالد
اہلِ بیتؑ سے متعلق منقبت و سلام کے لیے معروف۔
ڈاکٹر طارق قمر
سلام اہلِ بیتؑ کے لیے معروف جدید شاعر۔
سید انور جاوید ہاشمی
مرثیہ و سلام کی جدید روایت سے وابستہ۔
حافظ حمزہ سلمانی
اہلِ بیتؑ کے موضوعات پر منقبت اور کلام رکھتے ہیں۔
امجد حمید محسن
اہلِ بیتِ اطہارؑ سے محبت پر مبنی مجموعہ "کریمِ کربلا" ان کی ایک نمایاں کتاب ہے۔
آغا سروش
ان کا مجموعہ "بیاضِ جاں" نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے۔